اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، صدر ایران نے ملک کے حالیہ واقعات میں امریکہ، صیہونی حکومت اور بعض یورپی ملکوں کے براہ راست کردار اور مداخلت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت ظالمانہ پابندیوں کے اثرات کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان اور روس کے صدر ولادی میر پوتین نے جمعے کی شام ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے علاقائی و بین الاقوامی صورتحال، خاص طور سے ایران کے حالیہ واقعات اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔
صدر ایران نے اس موقع پر روس کی جانب سے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں تہران کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کہ حالیہ واقعات میں امریکہ، صیہونی حکومت اور بعض یورپی ملکوں کا براہ راست ہاتھ ہے اور ان کا کردار پوری طرح نمایاں ہے۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی عظیم قوم نے حالیہ واقعات کے محض چند روز بعد ملگ گیر ملین مارچ میں شرکت کرکے آشوب گروں اور بلوائیوں کی بساط لپیٹ کر رکھ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایرانی عوام پر امریکہ اور یورپی ملکوں کی ظالمانہ پابندیوں کے اثرات کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
روسی صدر ولادی میرپوتین نے اس ٹیلی فونک رابطے میں رہبرانقلاب اسلامی اور ملت ایران کی خدمت میں پرخلوص سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے واقعات کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ہمارا خیال کہ جو کچھ پیش آیا وہ رنگین انقلاب سے ملتا جلتا ڈرامہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ طویل عرصے سے جاری ظالمانہ پابندیوں کی وجہ سے ایران کو اقتصادی اور سماجی مشکالات کا سامنا ہے لیکن آشوب اور بلووں کا پرامن مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں۔
روسی صدر نے سرکاری اور عوامی املاک ، مذہبی مقامات اور سیکورٹی اور انتظامی اہلکاروں پر ہونے والے پرتشدد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات کے بعد، اپنے ملک کے نظام، رہبر اور حکومت کی حمایت میں ایرانی عوام کے ملین مارچ نے حقائق اور صورتحال کو پوری طرح واضح کردیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ایران کے اقدامات اقتصادی صورتحال میں بہتری اور معاشی مشکلات میں کمی کا باعث بنیں گے۔
صدر ولادی میر پوتین نے کہا کہ ان کا ملک عالمی اداروں میں ایران کے موقف کی حمایت اور کشیدگی میں کمی کی غرض سے سفارتی کوششیں بدستور جاری رکھے گا۔
روسی صدر نے ایران اور روس کے درمیان تعلقات کی سطح پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر عملدرآمد کے جانے پر بھی زور دیا ، انہوں نے کہا کہ ایران روس مشترکہ تجارتی کمیشن کا اجلاس عنقریب منقعد ہوگا جس میں باہمی تعاون کے فروغ کی راہوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ